جوہری معاہدہ: ایرانی صدر کا خیرمقدم، اسرائیل ناراض

ایرانی صدر حسن روحانی نے اپنے خطاب میں کہا کہ میں ایرانی قوم کے سامنے یہ اعلان کرتا ہوں کہ ایران کی یورینیم کی افزودگی ماضی کی طرح جاری رہے گی۔

ایران اور چھ عالمی طاقتوں کے درمیان مذاکرات کے بعد ایرانی جوہری پروگرام پر ابتدائی معاہدہ طے پا گیا ہے۔

امریکی صدر نے کہا ہے کہ اس سے دنیا مزید محفوظ ہوگی جبکہ اسرائیل نے اسے تاریخی غلطی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اس کا پابند نہیں۔

معاہدے کی بدولت کئی دہائیوں میں پہلی مرتبہ ایران کا جوہری پروگرام روک دیا گیا ہے۔اس معاہدے کا مطلب یہ ہےکہ ایران اپنے جوہری پروگرام  کو مزید ترقی نہیں دے سکے گا اور کچھ پہلوؤں سے اس پروگرام کو سکیڑا جائے گا-  صدر اوباما

اِس کی جیسے بھی تشریح کی جائے لیکن اِس معاہدے میں یہواضح طور پر طے کیا گیا ہے کہ ایران اپنا افزودگی کا پروگرام جاری رکھے گا۔ اور اِس مقصد کے لئے میں ایرانی قوم کے سامنے یہ اعلان کرتا ہوں کہ ایران کی یورینیم کی افزودگی ماضی کی طری جاری رہے گی۔ ایرانی صدر، حسن روحانی

ادھر اسرائیلی وزیر اعظم نے اس معاہدے کو تاریخی غلطی قرار دیا ہے۔

اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامن نیتن یاہو کا کہنا ہے کہ اسرائیل اس معاہدے کا پابند نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ ’دنیا کی سب سے خطرناک قوم دنیا کے سب سے خطرناک ہتھیار کے حصول کی جانب اہم قدم اٹھانے میں کامیاب ہو گئی ہے۔‘

انہوں نے واضح کیا کے اسرائیل اپنے دفاع کا حق محفوظ رکھتا ہے۔

امریکی صدر براک اوباما نے معاہدے کو پہلا اہم قدم قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے دنیا مزید محفوظ ہو جائے گی۔

ان کا کہنا تھا اس میں ’ٹھوس حدود شامل ہیں جو کہ ایران کو جوہری ہتھیار کی تیاری سے باز رکھیں گی۔‘

Post Author: Muhammad Zain